حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّاسَ، كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، يَبْتَغُونَ بِهَا ـ أَوْ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ ـ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Aisha:
The people used to look forward for the days of my (`Aisha's) turn to send gifts to Allah's Messenger (ﷺ) in order to please him.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
لوگ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے ۔ اپنے ہدایا سے ، یا اس خاص دن کے انتظار سے ( راوی کو شک ہے ) لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے ۔
‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ লোকেরা তাদের হাদিয়া পাঠাবার ব্যাপারে ‘আয়িশা (রাঃ)-এর জন্য নির্ধারিত দিনের অপেক্ষা করত। এতে তারা রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সন্তুষ্টি অর্জনের চেষ্টা করত।