حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، مَوْلَى وَالِبَةَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا لِلإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالإِيضَاعِ ". أَوْضَعُوا أَسْرَعُوا. خِلاَلَكُمْ مِنَ التَّخَلُّلِ بَيْنَكُمْ، وَفَجَّرْنَا خِلاَلَهُمَا. بَيْنَهُمَا.
Narrated Ibn `Abbas.:
I proceeded along with the Prophet (ﷺ) on the day of `Arafat (9th Dhul-Hijja). The Prophet (ﷺ) heard a great hue and cry and the beating of camels behind him. So he beckoned to the people with his lash, "O people! Be quiet. Hastening is not a sign of righteousness."
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سوید نے بیان کیا ، کہا مجھ سے مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا ، انہیں والیہ کوفی کے غلام سعید بن جبیر نے خبر دی ، ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنما نے بیان کیا کہ
عرفہ کے دن ( میدان عرفات سے ) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سخت شور ( اونٹ ہانکنے کا ) اور اونٹوں کی مار دھاڑ کی آواز سنی تو آپ نے ان کی طرف اپنے کوڑے سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ لوگو ! آہستگی و وقار اپنے اوپر لازم کر لو ، ( اونٹوں کو ) تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ ( سورۃ البقرہ میں ) «أوضعوا» کے معنی ریشہ دوانیاں کریں ، «خلالكم» کا معنی تمہارے بیچ میں ، اسی سے ( سورۃ الکہف ) میں آیا ہے «وفجرنا خلالهما» یعنی ان کے بیچ میں ۔
ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ‘আরাফার দিনে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সঙ্গে ফিরে আসছিলেন। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) পিছনের দিকে খুব হ্যাঁকডাক ও উট পিটানোর শব্দ শুনতে পেয়ে তাদের চাবুক দিয়ে ইঙ্গিত করে বললেনঃ হে লোক সকল! তোমরা ধীরস্থিরতা অবলম্বন কর। কেননা, উট দ্রুত হাকানোর মধ্যে কোন কল্যাণ নেই। (আরবি) অর্থাৎ তারা দ্রুত চলত। (আরবি) তোমাদের ফাঁকে ঢুকে, (আরবি) উভয়টির মধ্যে প্রবাহিত করেছি। (আঃপ্রঃ ১৫৫৭, ইঃফাঃ ১৫৬৩)