حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، - قَالَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ اتَّفَقُوا أَخُو الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ - قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَجِيءَ بِطَعَامِهَا فَقَامَ الْقَاسِمُ يُصَلِّي فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلاَ وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ " .
Narrated 'Abd Allaah b. Muhammad:
We were in the company of 'Aishah. When her food was brought in, al-Qasim stood up to say his prayer. Thereupon , 'Aishah said : I heard the Messenger of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) say: Prayer should not be offered in presence of meals, nor at the moment when one is struggling with two evils (e.g. when one is feeling the call of nature.)
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ
ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے ، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم ( قاسم بن محمد ) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، یہ دیکھ کر وہ بولیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں ( پاخانہ و پیشاب ) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں “ ۔