حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، نَحْوَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ أَلاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِينَا فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ " . زَادَ ابْنُ يَحْيَى وَعَمْرٌو فِي حَدِيثَيْهِمَا " وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ لِصَاحِبِهِ " . وَقَالَ عَمْرٌو " الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ لاَ يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَهُ " .
Abu `Amir al-Hawdhani said:
Mu`awiyah b. Abi Sufiyan stood among us and said: Beware! The Apostle of Allah (ﷺ) stood among us and said: Beware! The people of the Book before were split up into seventy two sects, and this community will be split into seventy three: seventy two of them will go to Hell and one of them will go to Paradise, and it is the majority group. Ibn Yahya and `Amr added in their version : “ There will appear among my community people who will be dominated by desires like rabies which penetrates its patient”, `Amr’s version has: “penetrates its patient. There remains no vein and no joint but it penetrates it.”
ابوعامر عبداللہ بن لحی حمصی ہوزنی کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہا : سنو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” سنو ! تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے ، بہتر ( ۷۲ ) فرقوں میں بٹ گئے ، اور یہ امت تہتر ( ۷۳ ) فرقوں میں بٹ جائے گی ، بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہی «الجماعة» ہے “ ۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایت میں اتنا مزید بیان کیا : ” اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی ، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو ۱؎ “ ۔ اور عمرو کی روایت میں «لصاحبه» کے بجائے «بصاحبه» ہے اس میں یہ بھی ہے : کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو ۔