Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 4523

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 41: Types of Blood-Wit (Kitab Al-Diyat) - كتاب الديات

Hadith 4523

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلاً فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا فَقَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً ‏.‏ فَانْطَلَقْنَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ تَأْتُونِي بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ ‏.‏ فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ‏.‏

Narrated Bashir b. Yasar:

That a man of the Ansar called Sahl b. Abi Hathmah told him that some people of his tribe went to Khaibar and separated there. They found one of them slain. They said to those with whom they had found him: You have killed our friend. They replied: We did not kill him, nor do we know the slayer. We (the people of the slain) then went to the Prophet of Allah (ﷺ). He said to them: Bring proof against the one who has slain him. They replied: We have no proof. He said: Then they will take an oath for you. They said: We do not accept the oaths of the Jews. The Messenger of Allah (ﷺ) did not like no responsibility should be fixed for his blood. So he himself paid his bloodwit consisting of one hundred camels of sadaqah (i.e. camels sent to the Prophet as zakat).

بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ

سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے ، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے ، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا : تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے ، وہ کہنے لگے : ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہمارے پاس گواہ نہیں ہے ، اس پر آپ نے فرمایا : ” پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے “ وہ کہنے لگے : ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے ، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 30
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00