حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ " مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ " . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُتِلَتْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْحِجَامَةِ .
Narrated AbuSalamah:
A Jewess presented a roasted sheep to the Messenger of Allah (ﷺ) at Khaybar. He then mentioned the rest of the tradition like that of Jabir (No. 4495). He said: Then Bashir ibn al-Bara' ibn Ma'rur al-Ansari died. He sent someone to call on the Jewess, and said to her (when she came): What motivated you to do the work you have done? He then mentioned the rest of the tradition similar to the one mentioned by Jabir (No. 4495). The Messenger of Allah (ﷺ) then ordered regarding her and she was killed. But he (AbuSalamah) did not mention the matter of cupping.
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
خیبر کی ایک یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی ، پھر راوی نے ویسے ہی بیان کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے ، ابوسلمہ کہتے ہیں : پھر بشر بن براء بن معرور انصاری فوت ہو گئے ، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا : ” تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ “ پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا : تو وہ قتل کر دی گئی ، اور انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎ ۔