Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 4342

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 39: Battles (Kitab Al-Malahim) - كتاب الملاحم

Hadith 4342

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَقَالُوا وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

The Prophet (ﷺ) said: How will you do when that time will come? Or he said: A time will soon come when the people are sifted and only dregs of mankind survive and their covenants and guarantees have been impaired and they have disagreed among themselves and become thus, interwining his fingers. They asked: What do you order us to do, Messenger of Allah? He replied: Accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs and leave alone the affairs of the generality. Abu dawud said: A similar tradition has been transmitted by 'Abd Allah bin 'Amr from the Prophet (ﷺ) through different chain.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا ؟ “ یا آپ نے یوں فرمایا : ” عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے ، اچھے لوگ سب مر جائیں گے ، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے ، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا ( یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے ) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا ، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت ہم کیا کریں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو ، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو ، اور خاص کر اپنی فکر کرو ، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے ۔

In-book reference : Book 39, Hadith 52
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00