حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، : أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَىَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً . فَقَالَ لَهَا : " أَيْنَ اللَّهُ " . فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا . فَقَالَ لَهَا : " فَمَنْ أَنَا " . فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِلَى السَّمَاءِ، يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
Narrated Abu Hurairah:
A man brought the Prophet (ﷺ) a black slave girl. He said: Messenger of Allah, emancipation of believing slave is due to me. He asked her: Where is Allah ? She pointed to the heaven with her finger. He then asked her: Who am I ? She pointed to the Prophet (ﷺ) and to the heaven, that is to say: You are the Messenger of Allah. He then said: Set her free, she is a believer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا ، اور اس نے عرض کیا : اﷲ کے رسول ! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( لونڈی ) سے پوچھا : ” اﷲ کہاں ہے ؟ “ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی آسمان کے اوپر ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی ( یہ کہا ) آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لونڈی لے کر آنے والے شخص سے ) کہا : ” اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے “ ۔