حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنِ الْعَبَّاسِ السَّاعِدِيِّ، - يَعْنِي ابْنَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَبُوكَ فَلَمَّا أَتَى وَادِيَ الْقُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ " اخْرُصُوا " . فَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشَرَةَ أَوْسُقٍ فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ " أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا " . فَأَتَيْنَا تَبُوكَ فَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدَةً وَكَتَبَ لَهُ - يَعْنِي - بِبَحْرِهِ . قَالَ فَلَمَّا أَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى قَالَ لِلْمَرْأَةِ " كَمْ كَانَ فِي حَدِيقَتِكِ " . قَالَتْ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ " .
Abu Humaid Al Sa’idi said “I went to Tabuk on an expedition along with the Apostle of Allaah(ﷺ). When he reached Wadi Al Qura, he found a woman in her garden. The Apostle of Allaah(ﷺ) said to his Companions “Assess (the quantity o fruits). The Apostle of Allaah(ﷺ) assessed ten wasqs.” He said to the woman “Count the produce of it. We then came to Tabuk.” The monarch of Ailah presented a white mule as a gift to the Apostle of Allaah(ﷺ). He presented a cloak as a gift o him and wrote a document for his land at sea coast. When we came to Wadi Al Qura he said to the woman “How much is the produce of your garden?” She replied “Ten wasqs which the Apostle of Allaah(ﷺ) had assessed.” The Apostle of Allaah(ﷺ) said “I am going quickly to Madeenah if any of you intend to go quickly with me , he should make haste.”
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک ( جہاد کے لیے ) چلا ، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا : ” تخمینہ لگاؤ ( کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے ) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ۱؎ کا تخمینہ لگایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا : ” آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا “ ، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ ۲؎ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے ( جزیہ کی شرط پر ) اپنے ملک میں رہنے کی سند ( دستاویز ) لکھ دی ، پھر جب ہم لوٹ کر وادی قری میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا : ” تیرے باغ میں کتنا پھل ہوا ؟ “ اس نے کہا : دس وسق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ہی کا تخمینہ لگایا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جلد ہی مدینہ کے لیے نکلنے والا ہوں تو تم میں سے جو جلد چلنا چاہے میرے ساتھ چلے “ ۳؎ ۔