Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 3041

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 20: Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah) - كتاب الخراج والإمارة والفىء

Hadith 3041

حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، - يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى أَلْفَىْ حُلَّةٍ النِّصْفُ فِي صَفَرٍ وَالْبَقِيَّةُ فِي رَجَبٍ يُؤَدُّونَهَا إِلَى الْمُسْلِمِينَ وَعَارِيَةِ ثَلاَثِينَ دِرْعًا وَثَلاَثِينَ فَرَسًا وَثَلاَثِينَ بَعِيرًا وَثَلاَثِينَ مِنْ كُلِّ صِنْفٍ مِنْ أَصْنَافِ السِّلاَحِ يَغْزُونَ بِهَا وَالْمُسْلِمُونَ ضَامِنُونَ لَهَا حَتَّى يَرُدُّوهَا عَلَيْهِمْ إِنْ كَانَ بِالْيَمَنِ كَيْدٌ أَوْ غَدْرَةٌ عَلَى أَنْ لاَ تُهْدَمَ لَهُمْ بَيْعَةٌ وَلاَ يُخْرَجُ لَهُمْ قَسٌّ وَلاَ يُفْتَنُوا عَنْ دِينِهِمْ مَا لَمْ يُحْدِثُوا حَدَثًا أَوْ يَأْكُلُوا الرِّبَا ‏.‏ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَقَدْ أَكَلُوا الرِّبَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا نَقَضُوا بَعْضَ مَا اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ فَقَدْ أَحْدَثُوا ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Messenger of Allah (ﷺ) concluded peace with the people of Najran on condition that they would pay to Muslims two thousand suits of garments, half of Safar, and the rest in Rajab, and they would lend (Muslims) thirty coats of mail, thirty horses, thirty camels, and thirty weapons of each type used in battle. Muslims will stand surely for them until they return them in case there is any plot or treachery in the Yemen. No church of theirs will be demolished and no clergyman of theirs will be turned out. There will be no interruption in their religion until they bring something new or take usury. Isma'il said: They took usury. Abu Dawud said: If they violate any provision of the treaty, they will be deemed as bringing something new.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کپڑوں کے دو ہزار جوڑے مسلمانوں کو دیا کریں گے ، آدھا صفر میں دیں ، اور باقی ماہ رجب میں ، اور تیس زرہیں ، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ اور ہر قسم کے ہتھیاروں میں سے تیس تیس ہتھیار جس سے مسلمان جہاد کریں گے بطور عاریت دیں گے ، اور مسلمان ان کے ضامن ہوں گے اور ( ضرورت پوری ہو جانے پر ) انہیں لوٹا دیں گے اور یہ عاریۃً دینا اس وقت ہو گا جب یمن میں کوئی فریب کرے ( یعنی سازش کر کے نقصان پہنچانا چاہے ) یا مسلمانوں سے غداری کرے اور عہد توڑے ( اور وہاں جنگ در پیش ہو ) اس شرط پر کہ ان کا کوئی گرجا نہ گرایا جائے گا ، اور کوئی پادری نہ نکالا جائے گا ، اور ان کے دین میں مداخلت نہ کی جائے گی ، جب تک کہ وہ کوئی نئی بات نہ پیدا کریں یا سود نہ کھانے لگیں ۔ اسماعیل سدی کہتے ہیں : پھر وہ سود کھانے لگے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب انہوں نے اپنے اوپر لاگو بعض شرائط توڑ دیں تو نئی بات پیدا کر لی ( اور وہ ملک عرب سے نکال دئیے گئے ) ۔

In-book reference : Book 20, Hadith 114
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00