حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ - وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَتُصَلِّيَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يَرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ " إِنَّمَا هِيَ - أَوْ قَالَ إِنَّمَا هُوَ - عِرْقٌ أَوْ قَالَ عُرُوقٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الأَمْرَانِ جَمِيعًا وَقَالَ " إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلاَةٍ وَإِلاَّ فَاجْمَعِي " . كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما .
Narrated Zaynab daughter of AbuSalamah:
AbuSalamah said: Zaynab daughter of AbuSalamah reported to me that a woman had a copious flow of blood. She was the wife of AbdurRahman ibn Awf. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded her to take a bath at the time of every prayer, and then to pray. He reported to me that Umm Bakr told him that Aisha said: The Messenger of Allah (ﷺ) said about a woman who was doubtful of her menstruation after purification that it was a vein or veins. Abu Dawud said: The two commands (of which the Prophet gave option) were as follows in the version reported by Ibn 'Aqil: He said: If you are strong enough, then take a bath for every prayer; otherwise combine the (two prayers), as al-Qasim reported in his version. This statement was also narrated by Sa'id b. Jubair from 'Ali and Ibn 'Abbas.
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ
ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت تھی اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا ۔ ( یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) نے مجھے خبر دی کہ ام بکر نے انہیں خبر دی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق جو طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے ، فرمایا : ” یہ تو بس ایک رگ ہے “ ، یا فرمایا : ” یہ تو بس رگیں ہیں “ ، راوی کو شک ہے کہ «إنما هي عرق» کہا یا «إنما هو عروق» کہا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عقیل کی حدیث میں دونوں امر ایک ساتھ ہیں ، اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر ہو سکے تو تم ہر نماز کے لیے غسل کرو ، ورنہ دو دو نماز کو جمع کر لو “ ، جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں کہا ہے ، نیز یہ قول سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے ، وہ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ۔