Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2650

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 15: Jihad (Kitab Al-Jihad) - كتاب الجهاد

Hadith 2650

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، حَدَّثَهُ حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، - وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ ‏"‏ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا هَلُمِّي الْكِتَابَ ‏.‏ فَقَالَتْ مَا عِنْدِي مِنْ كِتَابٍ ‏.‏ فَقُلْتُ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ‏.‏ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا يَا حَاطِبُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَإِنَّ قُرَيْشًا لَهُمْ بِهَا قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي بِهَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ بِي مِنْ كُفْرٍ وَلاَ ارْتِدَادٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏

‘Ali said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent me Al Zubair and Al Miqdad and said “Go till you come to the meadow of Khakh for there Is a woman there travelling on a Camel who has a letter which you must take from her. We went off racing one another on our horses till we came to the meadow and when we found the woman, we aid “Bring out the letter. She said “I have no letter”. I said “You must bring out the letter else we strip off your clothes”. She then brought it out from the tresses and we took it to the Prophet(ﷺ). It was addressed from Hatib bin Abi Balta’ah to some of the polytheists(in Makkah) giving them some information about the Apostle of Allaah(ﷺ). He asked “What is this, Hatib? He replied, Apostle of Allaah(ﷺ) do not be hasty with me. I have been a man attached as an ally to the Quraish and am not one of them while those of the Quraish (i.e. the emigrants) have relationship with them by which they guarded their family in Makkah. As I did not have that advantage I wanted to give them some help for which they might guard my relations. I swear by Allaah I am not guilty of unbelief or apostasy (from my religion). The Apostle of Allaah(ﷺ) said “he has told you the truth. ‘Umar said “Let me cut off this hypocrite’s head. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “He was present at Badr and what do you know, perhaps Allaah might look with pity on those who were present at Badr? And said “Do what you wish, I have forgiven you.”

عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے منشی تھے ، کہتے ہیں : میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا : ” تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ۱؎ پہنچو ، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا “ ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا ، ہم نے اس سے کہا : خط لاؤ ، اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ، میں نے کہا : خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے ، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا ، ہم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ، وہ حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام تھا ، وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امور سے آگاہ کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” حاطب یہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے ، میں تو ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر شامل ہوا ہوں یعنی ان کا حلیف ہوں ، خاص ان میں سے نہیں ہوں ، اور جو لوگ قریش کی قوم سے ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں ، مشرکین اس قرابت کے سبب مکہ میں ان کے مال اور عیال کی نگہبانی کرتے ہیں ، چونکہ میری ان سے قرابت نہیں تھی ، میں نے چاہا کہ میں ان کے حق میں کوئی ایسا کام کر دوں جس کے سبب مشرکین مکہ میرے اہل و عیال کی نگہبانی کریں ، قسم اللہ کی ! میں نے یہ کام نہ کفر کے سبب کیا اور نہ ہی ارتداد کے سبب ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے تم سے سچ کہا “ ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے : مجھے چھوڑئیے ، میں اس منافق کی گردن مار دوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جنگ بدر میں شریک رہے ہیں ، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو جھانک کر نظر رحمت سے دیکھا ، اور فرمایا : تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 174
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00