حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - عَنْ زَائِدَةَ، - الْمَعْنَى - عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلاَلَ - قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي رَمَضَانَ - فَقَالَ " أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " يَا بِلاَلُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا " .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said: I have sighted the moon. Al-Hasan added in his version: that is, of Ramadan. He asked: Do you testify that there is no god but Allah? He replied: Yes. He again asked: Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? He replied: Yes. and he testified that he had sighted the moon. He said: Bilal, announce to the people that they must fast tomorrow.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا : میں نے چاند دیکھا ہے ، ( راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا : ” کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟ “ اس نے جواب دیا : ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں “ ۔