Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2300

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 13: Divorce (Kitab Al-Talaq) - كتاب الطلاق

Hadith 2300

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، - وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُّومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنِّي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ وَلاَ نَفَقَةٍ ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي قَالَتْ فَقَالَ ‏"‏ امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَىَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ ‏.‏

Zaynab, daughter of Ka'b ibn Ujrah narrated that Furay'ah daughter of Malik ibn Sinan, told her that she came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him whether she could return to her people, Banu Khidrah, for her husband went out seeking his slaves who ran away. When they met him at al-Qudum, they murdered him. So I asked the Messenger of Allah (ﷺ):

"Should I return to my people, for he did not leave any dwelling house of his own and maintenance for me? She said: The Messenger of Allah (ﷺ) replied: Yes. She said: I came out, and when I was in the apartment or in the mosque, he called for me, or he commanded (someone to call me) and, therefore, I was called. He said: what did you say? So I repeated my story which I had already mentioned about my husband. Thereupon he said: Stay in your house till the term lapses. She said: So I passed my waiting period in it (her house) for four months and ten days. When Uthman ibn Affan became caliph, he sent for me and asked me about that; so I informed him, and he followed it and decided cases accordingly.

زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ) نے انہیں خبر دی ہے کہ

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں ؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں ؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( وہاں چلی جاؤ ) “ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ( یہ سن کر ) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا ، یا بلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا ، ( میں آئی ) تو پوچھا : ” تم نے کیسے کہا ؟ “ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت ( عدت ) پوری ہو جائے “ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے ، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا ، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 126
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00