Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2278

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 13: Divorce (Kitab Al-Talaq) - كتاب الطلاق

Hadith 2278

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا آخُذُهَا أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ ‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا ‏.‏ فَقَالَ زَيْدٌ أَنَا أَحَقُّ بِهَا أَنَا خَرَجْتُ إِلَيْهَا وَسَافَرْتُ وَقَدِمْتُ بِهَا ‏.‏ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ ‏ "‏ وَأَمَّا الْجَارِيَةُ فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ ‏"‏ ‏.‏ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

Zayd ibn Harithah went out to Mecca and brought the daughter of Hamzah with him. Then Ja'far said: I shall take her; I have more right to her; she is my uncle's daughter and her maternal aunt is my wife; the maternal aunt is like mother. Ali said: I am more entitled to take her. She is my uncle's daughter. The daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) is my wife, and she has more right to her. Zayd said: I have more right to her. I went out and journeyed to her, and brought her with me. The Prophet (ﷺ) came out. The narrator mentioned the rest of the tradition. He (i.e. the Prophet) said: As for the girl, I decided in favour of Ja'far. She will live with her maternal aunt. The maternal aunt is like mother.

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ گئے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے آئے ، جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اسے میں لوں گا ، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں ، یہ میری چچا زاد بہن ہے ، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے ، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے ، اور علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اس کا زیادہ حقدار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے ، وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں اور زید رضی اللہ عنہ نے کہا : سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا ، اور سفر کر کے اسے لے کر آیا ہوں ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 104
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00