Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2135

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 12: Marriage (Kitab Al-Nikah) - كتاب النكاح

Hadith 2135

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا وَلْقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمِي لِعَائِشَةَ ‏.‏ فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا قَالَتْ نَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا أُرَاهُ قَالَ ‏{‏ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا ‏}‏ ‏.‏

Narrated Hisham b. 'Urwah:

On the authority of his father that 'Aishah said: O my nephew, the Messenger of Allah (ﷺ) did not prefer one of us to the other in respect of his division of the time of his staying with us. It was very rare that he did not visit us any day (i.e. he visited all of us every day). He would come near each of his wives without having intercourse with her until he reached the one who had her day and passed his night with her. When Saudah daughter of Zam'ah became old and feared that the Messenger of Allah (ﷺ) would divorce her, she said: Messenger of Allah, I give to 'Aishah the day you visit me. The Messenger of Allah (ﷺ) accepted it from her. She said: We think that Allah, the Exalted, revealed about this or similar matter the Qur'anic verse: "If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part...." [4:128]

عروہ کہتے ہیں

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے بھانجے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں ، اور بغیر محبت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے ، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے ، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ : «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا» ( سورۃ النساء : ۱۲۸ ) نازل کی : ” اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 90
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00