حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " أَبُوهَا " . لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ .
The above tradition has been transmitted by ‘Abd Allaah bin Al Fadl through his chain of narrators and with different meaning. The version goes “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and the father of a virgin should ask her permission about herself.” Abu Dawud said “ The word “her father” is not guarded.
عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «أبوها» کا لفظ محفوظ نہیں ہے ۔