حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ فَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُنَّ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ .
A’ishah said “In what was sent down in the Qu’ran ten suckling’s made marriage unlawful, but they were abrogated by five known ones and when the Prophet (ﷺ) dies, these words were among what was recited in the Qur’an.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں نازل کی ہیں ان میں «عشر رضعات يحرمن» والی آیت بھی تھی پھر یہ آیت «خمس معلومات يحرمن» والی آیت سے منسوخ ہو گئی ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور یہ آیتیں پڑھی جا رہی تھیں ( یعنی بعض لوگ پڑھتے تھے پھر وہ بھی متروک ہو گئیں ) ۔