حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلاَ يَتَوَضَّئُونَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بِلَفْظٍ آخَرَ .
Narrated Anas:
The Companions during the lifetime of the messenger of Allah (May peace be upon him) used to wait for the night prayer so much so that their heads were lowered down (by dozing). Then they offered prayer and did not perform ablution. Abu Dawud said: Shu’bah on the authority of Qatadah added: We lowered down our heads (on accounts of dozing) in the day of the Messenger of Allah (May peace be upon him). Abu Dawud said; This tradition has been transmitted through a different chain of narrators.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان کے سر ( نیند کے غلبہ سے ) جھک جھک جاتے تھے ، پھر وہ نماز ادا کرتے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے ، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے ۔