حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، - قَالَ هِلاَلٌ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . وَقَالَ أَيُّوبُ وَعَمْرٌو أُرَاهُ - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِغُلاَمٍ وَهُوَ يَسْلُخُ شَاةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الإِبْطِ ثُمَّ مَضَى فَصَلَّى لِلنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ - يَعْنِي - لَمْ يَمَسَّ مَاءً . وَقَالَ عَنْ هِلاَلِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِلاَلٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً لَمْ يَذْكُرَا أَبَا سَعِيدٍ .
Narrated AbuSa'id al-Khudri:
The Prophet (ﷺ) passed by a boy who was skinning a goat. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give it up until I show you. He (the Prophet) inserted his hand between the skin and the flesh until it reached the armpit. He then went away and led the people in prayer and he did not perform ablution. The version of Amr added that he did not touch water. Abu Dawud said: This tradition has been narrated though another chain of transmitters, making no mention of Abu Sa'id.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا ، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم ہٹ جاؤ ، میں تمہیں ( عملی طور پر کھال اتار کر ) دکھاتا ہوں “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا ، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھوا تک نہیں ، نیز عمرو نے اپنی روایت میں «أخبرنا هلال بن ميمون الجهني» کے بجائے «عن هلال بن ميمون الرملي» ( بصیغہ عنعنہ ) کہا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے ، ہلال نے عطاء سے ، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور ابوسعید ( صحابی ) کا ذکر نہیں کیا ہے ۔