حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَوْ لِمَنْ بَعْدَنَا قَالَ " بَلْ لَكُمْ خَاصَّةً " .
Narrated Bilal ibn al-Harith al-Muzani:
I asked: Messenger of Allah, is the (command of) cancelling hajj meant exclusively for us, or for others too? He replied: No, this is meant exclusively for you.
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کا ( عمرے کے ذریعے ) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے “ ۔