حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَوَاكِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعاً نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلاً غَيْرَ آجِلٍ " . قَالَ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ .
Narrated Jabir ibn Abdullah:
The people came to the Prophet (ﷺ) weeping (due to drought). He said (making supplication): O Allah! give us rain which will replenish us, abundant, fertilising and profitable, not injurious, granting it now without delay. He (the narrator) said: Thereupon the sky became overcast.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر ) روتے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی : «اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل» یعنی ” اے اللہ ! ہمیں سیراب فرما ، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو ، اچھے انجام والی ہو ، سبزہ اگانے والی ہو ، نفع بخش ہو ، مضرت رساں نہ ہو ، جلد آنے والی ہو ، تاخیر سے نہ آنے والی ہو “ ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا ۔